DSC_0041
عوامی رائے کاتعارف
ذرائعِ ابلاغ کی اہمیت اوراس کی قدروقیمت سے انکارممکن نہیں۔دورحاضرکے تناظرمیں یہ کہنابجاہوگاکہ اس کی افادیت اب دوچندہوچکی ہے۔آج کادورالیکٹرانک میڈیاکادورہے مگرپرنٹ میڈیاکی اہمیت جیسی کل تھی ویسے ہی آج بھی ہے اورکل بھی رہے گی ۔میڈیاآج کسی بھی قوم ،کسی بھی تحریک اورکسی بھی فکرکامضبوط ترجمان بن چکاہے ۔ اس سے لوگ حیرت انگیز طورپرفائدہ اٹھارہے ہیں مگربدقسمتی سے ہمارااس سے رابطہ مستحکم نہیں ہوپارہاہے ،نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ ہمارے حریف جیساچاہتے ہیں ویساہمارے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں اوریہ پروپیگنڈ ہ اتنی زوروشورسے ہوتاہے کہ جھوٹ، سچ اورسچ، جھوٹ معلوم ہونے لگتاہے۔ ہفت روزہ ’’عوامی رائے ‘‘اٹھارہ سال قبل اسی پس منظرکے تحت منظرعام پرآیاتھا ۔عوامی رائے کوجس مقصدکے تحت شروع کیاگیاتھا،آج بھی اسی مشن اورپالیسی کے تحت اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کامشن سچ کوسچ کہنا اور جھوٹ کوجھوٹ بتاناہے۔ مختصرلفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کرنے ، حالات کی بالکل سچی تصویرپیش کرنے اورمعاشرے میں صالح انقلاب کی دھمک کا دوسرانام ہفت روزہ’’عوامی رائے ‘‘ہے ۔

مقاصد
٭فطری ،مشرقی تہذیب وثقافت اوراسلامی اقداروروایات کی ترجمانی کرنا
٭منفی پروپیگنڈوں کی بنیادپرپیداشدہ غلط فہمیوں کودورکرکے حقائق کی صحیح تصویرعوام الناس کے سامنے پیش کرنا
٭فرقہ پرستی ،گروہ بندی اورجارحانہ اقدام کے خلاف آوازبلندکرنا
٭بے کسوں ،مجبوروں اورمظلوموں کی آوازبننااوران کے مسائل اٹھانا
٭جرائم پیشہ افراد،بدعنوان سربراہان اورکرپٹ افسران کے خلاف آواز بلندکرنا
٭سرکاری اورنیم سرکاری اداروں کے قومی وملی ومفادکے ایجنڈوںسے عوام الناس کوروشناس کرانا
٭مسلمانوں کے ملکی ،عالمی ،معاشی ،سیاسی ،سماجی اورتعلیمی مسائل حل کرنا
٭دورحاضرکے مطابق نئے تقاـضوں اورنئے چیلنجوں سے مسلمانوںکاآگاہ کرنا
٭ہراہم مسئلے پرمسلمانوں کی صحیح نمائندگی کرنا
٭اسلامی تعلیمات کوعام کرنااورہرعمراورہرذوق کے مطابق مضامین کی اشاعت کرنا
٭ملک وبیرون ملک کی مذہبی ،سیاسی ،سماجی اورتعلیمی شخصیات کے انٹرویوزچھاپنا
٭ملک وبیرون ملک کے ممتازترین صحافیان ومقالہ نگاران سے کسی اہم ترین ایشوپراظہارخیال کرواکرقارئین کوروشناس کرانا
٭کسی بھی حساس قضیے پربروقت عوام الناس کی رہنمائی کرنا
٭تعلیمی اداروں کے ممتازطلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے انٹرویوزشائع کرناتاکہ وہ دوسرے طلبہ کی تحریک کاباعث بنیں
٭مخصوص دنوں اورتہواروں کے موقع پرخصوصی ایشوکی اشاعت کرنا
٭مختلف میدانوں میں نوجوانوں کی ابھرتی ہوئی صلاحیت کاتعارف کرانا
اس کے علاوہ اوربھی بہت کچھ جس سے ہمارے ملک اورہمارے سماج اورہمارے مذہب کی تعمیر وترقی وابستہ ہے ۔ ہفت روزہ’’ عوامی رائے‘‘ دراصل ان تمام چیزوں کے مجموعے کانام ہے۔ ان میں کچھ چیزوں پرتوعمل ہورہاہے اوربعض چیزیں عملی جامہ پہننے کی منتظرہیں۔ ہفت روزہ’’ عوامی راے ‘‘کی منزل صرف یہی نہیں ہے بلکہ اسلامی اقداروروایات کاتحفظ اورملک وملت کی تعمیروترقی میں جوبھی ممکنہ صورتیں ہوسکتی ہیں ان سب کوعمل سے مربوط کرنے کامنصوبہ ہے ۔ظاہرہے کہ اتنابڑامنصوبہ یوں ہی توپایہ تکمیل تک پہنچ نہیں سکتااس کے لیے زرکثیرکی ضرورت ہوگی۔

عوامی رائے کافروغ کیسے ہوا
ان سارے منصوبوں پرعمل کی بنیادرکھنے کے لیے بے پناہ وسائل کی بھی ضرورت ہے اورمتحرک افرادکی بھی لہٰذااس میںآپ کابے پناہ تعاون بھی درکار ہوگا ۔ دوسرے یہ کہ اردوزبان کی جوصورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔دراصل اردوکے دشمن ہم ہی ہیں جودعوے توبہت بڑے بڑے کرتے ہیںلیکن عملاً کچھ بھی نہیں کرتے ۔ اردورسائل وجرائدکی خدمت ہمارادینی وملی فریضہ ہے کیوںکہ ہمارے مذہب اورہماری تہذیب کامعتدبہ سرمایہ اسی زبان میں ہے اس لیے اس کاتحفظ بھی ہم سب کی ذمے داری ہے۔اس کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں ۔ ہفت روزہ ’’عوامی راے ‘‘اردوکاوہ اخبارہے جوملک کے اہم اہم مقامات ،مساجد،مدارس ،اہم شخصیتوں ،لائبریریوں ،تنظیموں اور عوام الناس کے ایک بہت بڑے طبقے تک پہنچتاہے لہٰذا اس کاتعاون ہمارااولین فرض ہے ۔حسب استطاعت اس کے تعاو ن کے لیے مندرجہ ذیل طریقے ہوسکتے ہیں۔
٭لائف ممبرشپ قبول کرکے
٭سال ،دوسال ،پانچ سال اوردس سال کاممبربن کر
٭کسی خصوصی ایشوکی اشاعت کی ذمے داری لے کر
٭اپنی کمپنی ،دکان یاپیشہ کااشتہاردے کر
٭سال ،دوسال یاپانچ سال کے لیے مسلسل اشتہاردے کر
٭اخبارکوزیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچاکر

عوامی رائے کب شروع ہوا
ہفت روزہ’’ عوامی رائے‘‘ کاسفرآج سے تقریباً اٹھارہ سال قبل ریاست اترپردیش کے مردم خیزشہردیوبندسے شروع ہواتھا۔اس کاپہلاشمارہ ۱۳؍مئی ۱۹۹۶ ء میں دیوبندسے نکلاتھا۔اس کے بانی جناب ڈاکٹرعلاء الدین شیخ صاحب اس وقت دیوبندکے ایک طبیہ کالج میں زیرتعلیم تھے۔ پڑھنے لکھنے کاشوق انہیں شروع ہی سے تھا۔ انہوںنے اپنے جذبات کی ترسیل اورقوم مسلم کونئے خیالات اورزمانے کے نئے رجحانات سے آگاہ کرانے کے لیے اخبارنکالنے کی ٹھانی اوریہ عظیم الشان ہفت روزہ نکالنے میں بہت کامیاب بھی رہے۔اس وقت یہ اخبار’’عوامی رائے ‘‘پندرہ روزہ تھا۔جب اس کے بانی جناب ڈاکٹرعلاء الدین شیخ صاحب مستقلاًممبئی میں مقیم ہوئے تو اس کو ۲۰۰۲ء سے ہفت روزہ کردیا۔اس وقت سے لے کرآج تک یہ ہفت روزہ ہی ہے اوربڑی پابندی کے ساتھ ممبئی سے نکل رہاہے ۔یہ اخبارملک کے مختلف مقامات پرجاتاہے اورپسندکیاجاتاہے اس کے کئی خصوصی شمارے شائع ہوچکے ہیںاوربہت پسندکیے گئے ہیں۔یہ اخبارویب سائٹ پربھی پڑھاجاسکتاہے ۔اس اخبارکے زیراہتمام بہت ساری قیمتی معلوماتی کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔
چیف ایڈیٹر
اس اخبارکے بانی ومالک ڈاکٹرشیخ علاء الدین علی عباس ہی اس کے چیف ایڈیٹرہیں
مدیران اعزازی
جناب اطہرحسین شیخ ،ایم یونس اعظمی(مکہ مکرمہ)،مولانامحمدشعیب کوٹی ،ایم دانش اعظمی،مولاناصادق رضامصباحی

مشاورتی کمیٹی
ڈاکٹرمحمدعلی پاٹنکرصاحب(چیئرمین) (مصنف/سماجی کارکن /وائس پریسیڈینٹ مہاراشٹرکالج ،ممبئی)
محترمہ اعجازفاطمہ پاٹنکر(وائس چیئرمین) (مصنف/ سماجی کارکن/رکن مہاراشٹرساہتیہ اکیڈمی،ممبئی )
جناب نورامروہوی(جنرل سکریٹری) (معروف شاعر/مصنف/سماجی کارکن ۔ڈیلاس ،امریکہ)
جناب ڈاکٹرآفتاب انورشیخ(سکریٹری) (پرنسپل پونہ کالج ،پونہ ،مہاراشٹر)
جناب ڈاکٹرانجم بارہ بنکوی(ممبر) (معروف شاعروادیب،پروفیسرشعبہ اردوبھوپال یونیورسٹی ،بھوپال)
جناب محمداسلم شیخ (ممبر) (پرنسپل صابوصدیق ٹیکنیکل ہائی اسکول اینڈجونیئرکالج ،ممبئی )
جناب ڈاکٹراخترسعید(ممبر) (ڈائرکٹرجامعہ ریمیڈیڈ،دیوبند،یوپی)
جناب آصف سلیمان شیخ(ممبر) (منیجنگ ڈائرکٹرایڈمس،ممبئی)
جناب سعیدشیخ (ممبر) (انکم ٹیکس کنسلٹنٹ)
جناب انیس الرحمٰن (ممبر) (ایم بی اے)
ڈاکٹرگریش ناراین(ممبر) (ایم بی اے)

قانونی صلاح کار:ایڈووکیٹ اسماعیل یوسف گھوجاریہ